واشنگٹن ،18؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)چین نے دنیا کا پہلا سیٹ لائٹ مدار میں روانہ کیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جس سے مواصلات کو زمین کی جانب بھیجا جا سکے گا، جس کے لیے اُسے توقع ہے کہ یہ ہیکنگ سے محفوظ ہے۔سیٹلائٹ کو منگل کے روز گنسو کے صوبے میں واقع شمال مغربی سحرائے گوبی کے ایک فوجی اڈے سے خلا میں روانہ کیا گیا۔سیٹلائٹ کا وزن 600سے زائد کلوگرام ہے، جسے مشیئس کا نام دیا گیا ہے، جو پانچویں صدی عیسوی میں جنم لینے والے چینی فلسفی اور سائنس دان تھے۔ یہ سیٹ لائٹ ہر 90منٹ بعد زمین کے گرد چکر مکمل کرے گا۔مشیئس کی جانب ہلکے ذرات فائر کیے جائیں گے، یہ طے کرنے کے لیے آیا (کوانٹم فزکس)برقی طبعیات طویل فاصلے کی مواصلات پر انکرپشن کو محفوظ رکھ سکے گی۔سرکاری شنہوا خبر رساں ادارے نے کہا ہے کہ سیٹلائٹ کے دو سالہ مشن کے دوران ہیکنگ سے پاک مواصلات کا ثبوت مل سکے گا کہ خلا سے زمین تک توڑی نہ جا سکنے والی چابیوں کی جزیات کی شبیہ کی ترسیل کس طرح سے ہوتی ہے۔مورس جونز کا تعلق غیروابستہ آسٹریلیائی خلائی تحقیق سے ہے، جو چین کے خلائی پروگرام کا مشاہدہ کرتے رہتے ہیں۔ اُنھوں نے وائس آف امریکہ کے وکٹر بیٹے کو بتایا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کوانٹم کمیونی کیشن سسٹم اتنا ناقابل توڑ نہیں جتنا چینی ہمیں جتلا رہے ہیں۔وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکہ، یورپ اور جاپان کے سائنس دان بھی کوانٹم فزکس کے تجربات کر رہے ہیں، جس کی فوجی افادیت ہوسکتی ہے۔ تاہم، چین کی جانب سے مارچ میں اعلان کردہ پانچ سالہ معاشی ترقی کے پروگرام میں اس ٹیکنالوجی کو چوٹی کی حکمتِ عملی قرار دیا گیا ہے؛ جس کی بنیادی تحقیق پر اربوں ڈالر کی لاگت آئی ہوگی۔ باوجود اس یقین کے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی ناقابل تسخیر نہیں، جونز نے کہا ہے کہ خلا میں اِس کا استعمال چینی سائنس دانوں کی جانب سے حاصل کردہ اہم پیش رفت کا درجہ رکھتا ہے۔جونز نے پیش گوئی کی ہے کہ اگلے 15برسوں کے دوران امریکی خلائی پروگرام چین سے پیچھے رہ جائے گا اگر امریکہ خلائی تحقیق کے شعبے میں مزید وسائل مختص کرنے کا عزم ظاہر نہیں کرتا۔پراجیکٹ کے سربراہ سائنس دان، پان جیان وائی ہیں، جو ہائی فے میں چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے تو آئندہ پانچ برسوں کے دوران چین دوسرا سیٹلائٹ روانہ کرے گا، تاکہ کوانٹم ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ایک نیٹ ورک تیار کیا جا سکے۔